اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ عراق کی سکیورٹی فورس نے سید محمود حسنی صرخی کو سیف سعد کے علاقے میں اپنے دفتر سے فرار کرتے ہوئے گرفتار کر لیا ہے۔
اس رپورٹ کے مطابق عراق کی سکیورٹی فورس نے گزشتہ روز کربلا کے گورنر عقیل الطریحی کے ہمراہ صرخی کے گھر چھاپہ مارا جبکہ وہ اس سے پہلے ہی گھر سے دفتر کی طرف فرار چکے تھے۔
الصرخی خود کو عراق کا مرجع تقلید سمجھتے ہیں انہوں نے کئ سالوں سے مخفی طور پر سرگرمیاں انجام دینے کے بعد منگل کی شب کربلا پر حملہ کر کے کربلا کو اپنے اختیار میں لینے کی ناکام کوشش کی تاھم کربلا کی سکیورٹی فورس نے حملہ آوروں کے ساتھ مقابلہ کر کے ۱۴ حملہ آوروں کو ہلاک اور معتدد کو گرفتار کر لیا۔
تحقیقات کے مطابق صدام کے دور سے ہی حسنی صرخی کا تعلق بعثی بارٹی سے رہا ہے اور حالیہ دنوں سعودی انٹیلجنس کی مدد سے مقام مرجعیت کو بدنام کرنے کی تلاش میں لگے ہوئے تھے۔ سعودی عرب کی ایڈ پر پلنے والے حسنی صرخی نے عراق میں گزشتہ دو سال کے دوران آیت اللہ سیستانی سے وابستہ ۱۰ مسجدوں اور امام بارگاہوں کو نذر آتش کروایا تاھم سکیورٹی فورس نے انہیں ڈھیل دے رکھی تھی کہ جب تک ان کی کوئی کاروائی کھلے عام عوام کے سامنے نہیں آجاتی انہیں گرفتار کرنے سے گریز کیا گیا تاکہ عوام کے اندر آشوب برپا نہ ہو جائے۔
صرخی کی لکھی ہوئی کتابوں سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایک معمولی طالب علم کی حد تک بھی دین سے آشنائی نہیں رکھتے چہ جائیکہ وہ مقام مرجعیت پر فائز ہوں۔
بظاہر الصرخی عراق میں اسلامی حکومت کے قیام کا نعرہ لگاتے ہیں لیکن گزشتہ انتخابات میں انہوں نے ان امید واروں کی حمایت کی جن کا تعلق غیر اسلامی پارٹیوں اور کمیونسٹ سے تھا۔
سکیورٹی فورس نے گزشتہ روز کربلا میں ہونے والی اس جھڑپ کے بعد کربلا میں مارش لا نافذ کر دیا۔
سکیورٹی فورس نے گزشتہ روز کربلا میں ہونے والی اس جھڑپ کے بعد کربلا میں مارشل لا نافذ کر دیا اور مکمل طور پر لوگوں کی آمد و شد کو ممنوع قرار دے دیا۔
عراق کے ذرائع ابلاغ نے بتایا ہے کہ عراق کی سکیورٹی فورس نے صرخی کو اس وقت گرفتار کیا جب وہ ’’سیف سعد‘‘ کے علاقے میں واقع اپنے دفتر سے ۳۰ افراد کے ہمراہ فرار کر رہے تھے۔
حسنی صرخی سے وابستہ لشکر کا کربلا میں داخل ہوتے ہوئے







کربلا میں مکمل طور پر کرفیو نافذ








۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲